نئی دہلی، 3/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)500اور 1000 کے پرانے نوٹ تبدیل کرنے کے لیے عام لوگوں کو پھر سے ایک موقع ملنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔سرکاری ذرائع نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے کہ 31/مارچ سے پہلے پرانے نوٹ جمع کرنے کا ایک آخری موقع حکومت دے سکتی ہے۔اس کے برعکس حکومت اب پرانے نوٹ ملنے پر سخت کارروائی کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔حکومت نے جمعہ کو لوک سبھا میں ایک بل پیش کیا، جس میں پرانے نوٹ ملنے پر کچھ معاملات کو چھوڑ کر دس ہزار روپے تک کا جرمانہ عائد کرنے کی تجویز ہے۔بتایا جاتا ہے کہ سیونگ اکاؤنٹ سے فی ہفتہ 24000روپے تک نکالنے کی حد ختم کرنے پر ریزرو بینک آف انڈیا جلد ہی فیصلہ لے سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق، عام لوگوں کو 500اور 1000روپے کے پرانے نوٹ جمع کرانے کا اب کوئی موقع نہیں دیا جائے گا۔کئی لوگوں کے پاس سے اب بھی پرانے نوٹ مل رہے ہیں، جنہیں وہ تبدیل کروانا چاہتے ہیں۔حکومت کے مطابق لوگوں کو کافی موقع مل چکا ہے۔آر بی آئی صاف کر چکا ہے کہ 9/نومبر سے 30/دسمبر تک بیرون ملک رہے ہندوستانیوں کو ہی پرانے نوٹ تبدیل کروانے کی چھوٹ ہے، جبکہ این آر آئی 30/جون تک ایسا کر سکتے ہیں۔